ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھوک پر مستقبل بھاری، کسانوں کی تحریک مزیدتیز، آج بھوک ہڑتال،تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز پر دھرنا

بھوک پر مستقبل بھاری، کسانوں کی تحریک مزیدتیز، آج بھوک ہڑتال،تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز پر دھرنا

Mon, 14 Dec 2020 11:33:12    S.O. News Service

نئی دہلی،14؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)مودی حکومت کے نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی ہڑتال کے18ویں دن بھی تحریک میں تیزی اورشدت نظرآئی -حکومت پردباؤبنانے کیلئے کسان لیڈروں نے اعلان کیاکہ دہلی کی سرحدوں پر موجود تمام کسان پیر کی صبح5بجے سے شام5بجے تک بھوک ہڑتال کریں گے- یہ ہڑتال دارالحکومت کے غازی پور، ٹیکری، سنگھو بارڈر اور کچھ دیگر مقامات پر کی جائے گی-

ان کامانناہے کہ مستقبل کے سدھارکیلئے آج کی بھوک برداشت کی جاسکتی ہے-اس کے علاوہ، تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز پر دھرنا دیاجائے گا - ناپسندیدہ عناصر کو تحریک سے دور رکھنے کیلئے مانیٹرنگ بھی کی جائے گی-وہیں، راجستھان اور دیگر جگہوں پر کسان ریواڑی کے قریب ہریانہ- راجستھان سرحد پر جمع ہوگئے ہیں اور دہلی-جے پور بارڈر پر بیٹھ گئے ہیں۔

دوسری جانب ہریانہ کے نائب وزیراعلیٰ دشینت چوٹالا نے کئی مرکزی وزراء سے ملاقات کرکے بات چیت کا دباؤ بڑھا دیا- کسان تنظیموں نے ملک میں کئی مقامات پر ٹول پلازہ پر مظاہرہ کرکے وصولی میں کسانوں نے کئی جتھے الگ الگ ریاستوں سے دہلی کو روانہ ہو گئے -

مسٹر چوٹالا نے وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر اور اشیائے خوردنی اور سپلائی کے وزیر پیوش گویل سے ملاقات کے بعد کہا کہ حکومت کسان تنظیموں کے ساتھ48گھنٹے میں اگلے دور کی بات چیت شروع کرے گی-

حکومت نے کسان تنظیموں کو زرعی اصلاحاتی قوانین میں ترمیم کی تجویز دی تھی جو خارج کر دی گئی تھی اور تحریک تیز کرنے کی دھمکی دی گئی تھی- مسٹر تومر نے کسانوں سے تحریک ختم کرکے بات چیت سے مسائل حل کرنے کی اپیل کی ہے -

انہوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ بات چیت سے مسئلے کا حل نکلے گا- حکومت کا دروازہ کسانوں سے بات چیت کے لیے کھلا ہے - کسان تنظیم گذشتہ18دن سے قومی دار الحکومت کی سرحد پر دھرنا دے رہے ہیں اور تحریک چلا رہے ہیں - حکومت نے دہلی کی سرحد پر سکیورٹی سخت کر دی ہے - سرحد پر بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے -


Share: